بھٹکل:30؍نومبر(ایس اؤ نیوز)کورونا کا نیا روپ ’اومیکرون‘ کو لےکر ریاست میں تشویش پائی جارہی ہے ، بھٹکل میں ہرروز نئے نئے سیاح آتےرہتےہیں ان حالات میں کیاکیا اقدامات کئے جانے چاہئے اس تعلق سے بحث شروع ہوچکی ہے۔
تعلقہ کے مشہور سیاحتی مقام مرڈیشور میں بنگلور، شموگہ اور ریاست کے دیگر حصوں کے ساتھ ساتھ پڑوسی ریاست کیرلا اور مہاراشٹرا سے بھی سیاح آتے رہتےہیں، حالات کو دیکھتےہوئے مرڈیشور کے داخلے پر پابندی عائد کئے جانے کے امکانات ظاہرکئے جارہےہیں، اگر پابندی عائد کی گئی تو پھر ایک بار سیاحت کو زبردست نقصان پہنچے گا۔ پچھلے دو برسوں سے کورونا وباء کی وجہ سے سیاحت میں سرمایہ کاری کرنے والوں کو کافی نقصان پہنچ چکا ہے۔ امسال موسم باراں میں توسیع ہونےکے بعد مرڈیشور میں سیاحوں کی آمد کو دو مہینے ہورہےہیں، کمائی کی رقم سے بینک سےلئے گئے قرضے کا سود ادا کرنے کےلئے بھی کافی نہیں ہورہاہے۔ ان حالات میں عوام خوف میں مبتلا ہیں کہ اگر دوبارہ کورونا وائرس امڈ کر آجائے تو کیا کریں ۔ صرف آبی کھیل کا ٹینڈر لینے والے ہی فکر مند نہیں ہیں بلکہ دکاندار، لاڈج کے مالکان بھی متفکر ہیں۔
کالج طلبا پر نگاہ :بھٹکل میں موجود انجنئیرنگ اور نرسنگ کالجوں میں پڑوسی ریاستوں کے طلبا (زیادہ تر کیرلا کے ) زیر تعلیم ہیں۔ اب ریاستی حکومت نے ہی کیرلا اور مہاراشٹر ا سے آنے والوں پر نگاہ رکھنےکی ہدایات جاری کئے جانے سے بھٹکل کو بھی اپنی تیاری کے ساتھ کھڑے ہونے کی ضرورت ہے۔ دیگر ریاستوں سے آنے والوں کو کورونا رپورٹ لازمی کیاگیا ہے۔ کورونا کے مشتبہ افراد کو کوارنٹائن پر بھیجنے کے متعلق غور کیاجارہاہے۔
ٹیکہ کاری کی سست روی :کورونا وائرس کی پہلی اور دوسری لہر سے بیدار ی پیدا ہونے سے تعلقہ میں جانچ ، کوارنٹائن اور ٹیکہ کاری پر زیادہ زور دینےکے باوجود بھٹکل شہر میں ٹیکہ کاری کی مہم بہت ہی سست روی سے چل رہی ہے۔ بھٹکل شہر میں ٹیکہ کاری کی شرح 73-74فی صد ہے ۔ ٹیکہ لے کر گھر گھر پہنچنے پر بھی لوگ ٹیکہ لینے سے انکار کرنےکی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جس سے پتہ چلتاہے کہ اب بھی مقامی سطح پر ٹیکہ کو لےکر کافی شکوک وشبہات پائے جاتے ہیں جس کے چلتے محکمہ صحت کےلئے ٹیکہ کاری ایک چیلنج بن گیا ہے۔ اب کورونا کا نیا روپ پھر ایک بار سردرد پیدا کررہاہے، محکمہ صحت کا عملہ ٹیکہ لے کر سنتے مارکیٹ،اندراکینٹین سمیت ہر نکڑ پر ٹیکہ لینے کے متعلق بیداری پید اکرنے کی کوشش کررہے ہیں۔
